شادی اور خاندان

مردوں اورعورتوں دونوں کو حق حاصل ہے کہ وہ جس سے شادی کرنا چاہتے ہیں اس کا انتخاب خود کریں۔ ڈنمارک میں یہ عمومی بات ہے کہ لوگ شادی کئے بغیراکٹھے رہتے ہیں۔ کسی کو زبردستی شادی کرنے پہ مجبور کرنا قابلِ سزا ہے۔

قطع نظرمرد یا عورت ہونے کے، آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کس کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا تعلق جنس مخالف یا  آپ کی اپنی جنس سے  ہو سکتا ہے۔ اپنا شریک حیات  منتخب  کرنے کی آزادی کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی آپ کو زبردستی کسی ایسے شخص سے شادی کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہو جس سے آپ شادی نہ کرنا چاہتے ہوں، توآپ کو زبردستی مجبور کرنا قابلِ سزا ہے۔ فیملی کی یہ قسم ٹھیک نہیں ہے۔  انسان شادی کئے بغیر بھی اکٹھے رہنے اور بچے پیدا کرنے کو چن سکتا ہے۔ آپ مشترکہ بچے پیدا کر سکتے ہیں یا سابقہ تعلق سے پیدا شدہ بچوں کو باہم یکجا کیا جا سکتا ہے۔

ازدواجی زندگی میں مرد اورعورت کے حقوق و فرائض یکساں ہیں۔ شادی شدہ جوڑے پر یہ فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی کفالت کریں، اور اگر بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی مشترکہ تحویل از خود دونوں والدین کے پاس ہوتی ہے۔ والدین کا باہمی طور پہ فرض ہے کہ اپنے وہ بچوں کی کفالت کریں۔ دیگر امور کے علاوہ والدین کا فرض ہے کہ بچوں کی نشو نما ہو، وہ سکول جائیں اور تفریحی وقت کی سرگرمیں میں فعال ہوں۔ ڈنمارک میں اپنے بچوں کو مارنا پیٹانا منع اور قابل سزا ہے۔

رابطہ

شہریوں کی سروس

شہریوں کی سروس میں آپ شادی کی شرائط، شادی کی درخواست اور شادی کے اجازت نامہ کی درخواست کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔
www.borger.dk

عورتوں کے کرائسس مراکز کی ملکی تنظیم LOKK
(Landsorganisation af Kvindekrisecentre)

اگر آپ خاندان میں تشّدد کا شکار ہوئے ہوں تویہاں آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

چوہیس گھنٹے کھلی ہاٹ لائین: 82 30 20 70

RED ریڈ محفوظ گھر غیرت کی بنا پہ خاندان میں تشّدد کا شکار ہونے والے ہر دو صنفوں کے اکیلے نیز جوڑے نوجوانوں کو مدد کی پیش کش کرتا ہے۔

 ٹیلی فون:  00 78 11 45 
www.red-safehouse.dk

ڈنمارک میں نو وارد
اگر آپ ڈنمارک میں نئے آئے ہوں اور اپنی/اپنے شریک حیات کو ملک میں بلوانا چاہتے ہوں تو آ پ nyidanmark.dk پر جا کرخاندان کی یکجائی کے متعلق قوانین کا مطالعہ کریں۔
www.nyidanmark.dk 

ڈینش امیگریشن سروس

ڈینش امیگریشن سروس کی بشمول دیگرے ذمہ داری ہے کہ وہ نورڈک ممالک اور ای اُو/ای ای اے سے باہر ممالک کے شہریوں کی طرف سے ڈنمارک میں رہائش کے اجازت ناموں کے لئے دی گئی درخواستوں کو نمٹائے۔ یہ محکمہ زوجین اور بچوں کی خاندان سے یکجائی کے کیسوں کو بھی نمٹاتا ہے۔

ٹیلی فون:88 88 30 35 ای میل aegtefaelle@us.dk, boern@us.dk

 

حقوق و فرائض

آپ کو اپنا شریک حیات منتخب کرنے کا حق حاصل ہے. شادی صرف اس صورت میں قانونی ہوتی ہے جب دونوں فریقین اپنی آزاد مرضی سے ہاں کریں۔ 

ڈنمارک میں جبری شادی ممنوع ہے. اگر آپ محسوس یں کہ آپ کوایسی شادی پہ مجبور کیا جا ریا ہے جو آپ نہ چاہتے ہوں توآپ  لوک (LOKK) یا اپنی  کمیون کے ہاں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

کسی کو تشّدد یا تشّدد کی دھمکی  کے ذریعہ شادی کرنے یا مذہبی نکاح جسکی قانونی حیثیت نہ ہو میں منسلک ہونے پہ مجبور کرنے کی سزا چار سال تک قید ہے۔ غیر ملکی باشندےجو کسی کو شادی یامذہبی نکاح جس کی قانونی حیثیت نہ ہو پر مجبور کریں تو انہیں ملک بدر کرنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

شادی کرنا غیر قانونی ہے اگر آپ: 

  • پہلے سے شادی شدہ ہوں 
  • آپ کی عمر 18 سال سے کم ہو
  • جس سے آپ کی شادی ہونے والی ہے وہ آپ کا قریبی رشتہ دار ہو 

اگر کسی شخص کی شادی ڈینش قوانین کے تحت نہ ہوئی ہو تو وہ ڈینش قانون کے ضوابط کے تحت طلاق بھی نہیں حاصل کر سکتا ہے۔ مذ ہبی نکاح  ڈنمارک میں قانونی طور پہ نافذالعمل نہیں ہیں.

ازدواجی زندگی میں مرد اورعورت کے حقوق و فرائض یکساں ہیں۔ ایک دوسرے کی کفالت کرنا ان کا فرض ہے۔ خاندان کی کفالت کرنا ان دونوں کا فرض ہے۔ یہ کوئی کمائی کرنے یا خانہ داری اور بچوں دیکھ بھال کرنے کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔

اگرآپ شادی شدہ ہیں اور زوجین میں ایک کسی دوسرے ملک میں مقیم ہو اور دوسرا ڈنمارک میں مقیم ہو توخاندان کی یکجائی ممکن ہے۔ آپ nyidanmark.dk پر جا کر خاندان کی یکجائی کے متعلق پڑھ سکتے ہیں اور امیگریشن سروس سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

 
 
 

پی ڈی ایف کو سیو کریں لنک بھیجیں