بچے اور نوعمر

زندگی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق مساوی ہیں اور انہیں یکساں مواقع میسر ہونے چاہیئں۔ بچوں کے معاملات کو احترام سے نمٹانا چاہئے۔ ان کا حق ہے کہ انہیں دیکھ بھال و تحفظ دیا جائے۔ بالغ افراد بچوں کی پٹائی نہیں کر سکتےہیں۔ ڈنمارک میں یہ 1997 سے منع ہے کہ والدین اپنے بچوں کی پٹائی کریں۔

والدین کی ذمہ داری   ہے کہ ان کے بچوں کے پاس رہائش گاہ ہو،  اگر انہیں کوئی تکلیف ہو جو علاج کا تقاضہ کرتی ہو تو ایک ڈاکٹر انہیں دیکھے وہ تعلیم حاصل کریں اور تشدد اور نشّہ کےناجائز استعمال کے خلاف ان کا تحفظ کیا جائے۔

ڈنمارک میں لڑکوں اور لڑکیوں پر نوسال سکول جانا فرض ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکول سے تعاون کریں اور بچہ سکول کی بہترین تعلیم حاصل کرے۔ بچے کی پرورش و تربیت کرنا والدین کی ذمہ داری ہے وہ کوشش کریں کہ اُس کا بچپن اچھا گذرے۔ لڑکیوں اورلڑکوں  کی حیثیت سے اچھے بچپن کے معٰنی یہ ہیں کہ وہ سماجی سر گرمیوں میں شرکت کریں، مثال کے طور پہ بچوں کی سالگرہ,  دوست/سہیلوں سے گھروں میں ملاقات کریں اورکیمپنگ سکول میں شامل ہوں۔ اس لئے یہ بہت اہم ہے کہ آپ بطور والدین بچے کو یہ ممکنات ومواقع فراہم کریں۔

اگر بچوں کے سکول کے سلسلہ میں آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو ہمشہ اپنے بچوں کی جماعت کے اساتذہ   سے رجوع کریں۔

رابطہ

چوں کے حقوق (Børns vilkår )

بچوں کے حقوق انسانی حقوق کی ایک پرایئویٹ تنظیم ہے، جو یہ یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہوتی ہے کہ بچوں کا ایک اچھا بچپن اور اچھی زندگی گذرے، نیز یہ کہ ڈنمارک کے تمام بچوں کو وہ مدد حاصل ہو جس کی ان کو ضرورت ہو۔  بچوں کی شرائط کے ہوم پیج پرجا کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیسے آپ کی مدد کر سکتے ہیں اور کہاں سے آپ کو بہترین مشورہ مل سکتا ہے۔ بچوں اور والدین دونوں کے لئے پیش کش موجود ہے۔  آپ والدین کے ٹیلی فون پر گمنام طور پہ فون کرکے اپنے تفکرات، یا اپنے بچوں کے ساتھ درپیش مسائل پر بات چیت کر سکتے ہیں۔

فون برائے والدین

فون نمبر: 57 55 55 35  روزمرہ 11 تا 23 بجے  اور ویک اینڈ میں 11 تا 19بجے

آپ ہوم پیج پر موجود فارم بھی پُر کر سکتے ہیں لیکن آپ  گمنام نہیں رہ سکیں گے۔

اگر آپ کے بچوں کو مسائل درپیش ہوں تو آپ انہیں درجِ ذیل سے رجوع کرنے کو کہہ سکتے ہیں:

بچوں کا ٹیلی فون

بچوں اور نوجوانوں کو مفت اور گمنام مشاورت فراہم کرے کی ہیش کش کرتے ہیں۔
www.bornsvilkar.dk

ٹیلی فون 116 111

لوک کی نوجوانوں کیلئے مشاورت 
www.lokk.dk 

 

حقوق

  • بالغوں کی طرح تشدد سے تحفظ بچوں کا بھی حق ہے۔
  • دیکھ بھال، تحفظ اورمارپٹائی سے بچاؤ بچوں کا حق ہے۔
  • قطع نظراپنی نسل، مذہب،  ثقافت اور جنس بچوں کا بھی حق ہے کہ ان کا خود مختاربالغ افراد کی طرح احترام کیا جائے۔
  • لڑکیوں اورلڑکوں کے مساوی حقوق ہیں۔ 

اگر بچے کی عمر 18سال سے کم ہوتو:

  • اسے خوراک، لباس اور رہائش گاہ کا حق ہے
  • اسے معاشرہ میں دوسرے افراد سے میل جول رکھنےکے لئے پرورش و تربیت حاصل کرنے کا حق ہے
  • سکول جانا، تفریحی سرگرمی اور کھیل کود اس کا حق ہے
  • اسے تشدد، استحصال اور منشیات کےناجائز استعمال کے خلاف تحفظ کا حق ہے
  • اسے آزادی اظہار اور  موئثر ہونے میں شراکت کا حق ہے۔

جب آپ 18 سال کے ہو جائیں تو آپ: 

  • انتخابات میں ووٹ  دے سکتے ہیں اور کھڑے ہو سکتے ہیں
  • معاہدوں پہ دستخط کر سکتے ہیں
  • اپنی معیشت کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہیں
  • ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر سکتے ہیں
  • شادی کرسکتے ہیں
  • خود اپنی رہائش گاہ حاصل کر سکتے ہیں

 

ارتکاب جرم کی صورت میں قابل سزا حدِعمر کم از کم  15سال ہے۔ اگر کوئی 15 سال سے کم عمر میں جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ جیل میں ڈالنے کی بجائے اسے نوعمر مجرموں کے ادارہ میں بھیجا جاتا ہے۔

جب تک بچے کی عمر پورے 18 سل نہیں ہو جاتی اس وقت تک والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین یہ بندو بست کریں:

  • کہ بچے کی دیکھ بھال کی جائے
  • کہ بچے کو خوراک  لباس اور رہائش گاہ میسر ہو
  • کہ بچے کو تشّدد اور منشّیات کے ناجائز استعمال کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے
  • کہ بچہ تعلیم حاصل کرے اور فارغ اوقات کی دلچسپیاں حاصل کرے

بچے کے سکول سے تعاون کرنا والدین کا فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اُنہیں والدین کے اجلاسوں اورسکول میں منعقدہ سرگرمیوں میں شرکت کرنی چاہیئے۔ سکول سے ملنے والا گھر کا کام کرنے میں بچے کی مدد کریں۔ والدین کوشش کریں کہ بچہ پوری طرح آرام کرے اور اسے لنچ باکس ساتھ دے کر بھیجیں۔

بچے حقدار ہیں کہ انہیں:

  • نو سال تعلیم میسر ہو
  • فولکے سکول میں مفت تعلیم دستیاب ہو
  • کتابیں اور دیگر تدریسی مواد ملے
  • ضرورت کے پیشِ نظرخاص تعلیم اور دیگر خاص مدد ملے
  • ضرورت ہو تو مترجم کی امداد ملے

تمام بچوں کو ڈنمارک میں مفت تعلیم کے لئے موقع میسر ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے کے فولکے سکول، گُمنیژیم، پیشہ ورانہ سکول یا یونیورسٹی میں جانے پہ آپ کو بطور والدین کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی ہے۔

 
 
 

پی ڈی ایف کو سیو کریں لنک بھیجیں