جنس کی مساوات

مردوں اور عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں سے ان کی جنس کی بنا پر مختلف برتاؤ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ معاشرہ میں ہر جگہ ان کے معاشی، سماجی، ثقافتی، شہری، جنسی اور سیاسی حقوق مساویانہ ہیں اور ہردو اصناف معاشرہ کے لئے وسیلہ ہیں۔

عورتوں اور مردوں کا درجہ یکساں ہے، ان کے حقوق مساویانہ ہیں اور عورتوں اور مردوں کے مابین ان کی جنس کی بنا پرامتیازی سلوک کرنا غیر قانونی ہے۔   

انسان کو خود پہ، اپنی زندگی اور جسم پر اختیار ہے ، اوراپنی کمائی کرنے کا حق حاصل ہے، اور قطع نظر  مرد یا عورت  ہونے کےاس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت  کرے اپنے بچوں کی ذمہ داری لے ، ٹیکس ادا کرے معاشرہ میں شریک عمل رہے۔

جنسوں کے مابین مساوات کے معنٰی یہ ہیں کی عورتوں اورمردوں کے لئے ممکن ہو کہ وہ  بغیر معاشرتی کنٹرول زندگی بسر کرسکیں، اور انہیں اپنی خواہش کے مطابق خود انتخاب کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔

معاشرہ اور خاندان میں اپنے حقوق کی پہچان کرنے سے انسان کواچھی زندگی گذارنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں، جس میں وہ تعلیم حاصل کرے اور ترقی پائے۔

ڈنمارک میں صنفی مساوات کا قانون رائج  ہے، جوعورتوں اور مردوں کو یکساں حقوق اورمواقع دیتا ہے۔

مختلف موضوعات کی ویب ایپلیکشنوں کے تحت آپ مزید پڑھ سکتے ہیں کہ صنفی مساوات کے ٹھوس و عملی معانی کیا ہیں۔

 

حقوق

آپ کی صنف کی بنا پرآپ سے امتیازی برتاؤ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بلا واسطہ یا بالواسطہ امتیازی برتاؤ غیر قانونی ہے۔

 ڈنمارک میں یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ  قطع نظر کسی کی نسل، تہذیبی و ثقافتی اصلیت یا مذہبی عقائد سب افراد کو ڈینش معاشرے میں شرکت کے لیے مساوی حقوق اور مواقع کی ضمانت دی جانی چاہئے ہے. تہذیبی و ثقافتی مساوات صنف، جنسی رجحان، معذوری، عمر، سیاسی رائے جیسے دیگر دائرہ ہائے کار میں مساوی سلوک کی توسیع ہے۔

 
 
 

پی ڈی ایف کو سیو کریں لنک بھیجیں