طلاق

اگر مرد اور عورت ایک ساتھ نہ رہنا چاہیں تو دونوں کو طلاق کا مطالبہ کرنے کا حق ہے۔ طلاق کی صورت میں مشترکہ ملکیت کو برابر تقیسیم کیا جاتا ہے۔ باوجودیکہ والدین میں طلاق ہو گئی ہو بچوں کو دونوں والدین کے ہاں رہنے کا حق حاصل ہے۔

اگر زوجین میں سے صرف ایک ہی چاہے تو اُسے طلاق کا حق حاصل ہے۔ اگر آپ دونوں متفق ہوں تو آپ کی فوری طلاق ہو سکتی ہے یا علیٰحدگی  کی ایک مدت کے بعد طلاق ہو سکتی ہے۔

اگرآپ دونوں طلاق کے لئے آپس میں متفق نہ ہوں تب بھی طلاق تو ہو سکتی ہے، مگر اس سے قبل آپ کو کم از کم 6 ماہ کے لئے علیٰحدگی میں رہنا پڑتا ہے۔ اگرمثال کے طور پہ طلاق کی درخواست کی وجہ تشدد، جبر و زبردستی یا زنا ہو تو یہ شرط عائد نہیں ہوتی اورباوجویکہ باہمی اتفاق نہ ہو تب بھی علیٰیحدگی کے بغیر فیٰ الفور طلاق ہو جاتی ہے۔

اگر آپ دونوں طلاق لینے پر آپس میں متفق ہوں تو آپ نے سٹیٹس فارویلٹنگن (Statsforvaltningen) کو ایک درخواست دینی ہوتی ہے، جو طلاق کی منظوری دیتی ہے۔ اس سے پہلے آپ کو ملکیت و جائداد کی تقسیم، آپ کے مشترکہ بچوں کی تحویل کس کے پاس ہوگی، بچوں سے ملاقات، بچوں کا خرچہ، نان و نفقہ اور رہائشی مکان کس کے نام ہوگا کے بارے میں متفق ہونا چاہیئے۔

اگر آپ  طلاق کے لئے باہمی طور پہ متفق نہ ہو سکیں تو سٹیٹس فارویلٹنگن آپ کی مدد کرے گی۔

رابطہ

سٹیٹس فارویلٹنگن   (Statsforvaltningen)

سٹیٹس فار ویلٹنگن کے ہاں علیٰحدگی اور طلاق کی درخواست دی جا  سکتی ہے۔ اگرآپ بچوں کی تحویل،  بچوں کے خرچہ،   زوجین کے نان و نفقہ،  بچوں سے ملاقات، اور ملکیت و جائداد کی تقسیم کے سلسلہ میں باہم متفق نہ ہو سکیں تو سٹیس فارویلٹنگن زوجین کی ثالثی اور مشورے کے ذریعہ مدد کرتی ہے۔

ملک بھر میں سٹیس فارویلٹنگن کی 9 شاخیں ہیں۔

ٹیلی فون نمبر:  00 70 56 72

سٹیس فارویلتںگن کے ہوم پیج  www.statsforvaltningen.dk   پر جا کر کھلنے کے اوقات کے متعلق مزید پڑھیئے۔

شہریوں کی سروس

سٹیس فارویلٹنگن کو ای میل کے ذریعہ   علیحٰدگی یا طلاق کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ آپ شہریوں کی سروس کے ہاں اس معاملہ میں مدد لے سکتے ہیں۔  شہریوں کی سروس کے ہوم پیج پر  علیحٰدگی اور طلاق سے متعلقہ معلومات میسر ہیں۔
www.borger.dk

 

حقوق و فرائض

اگر آپ اپنے شریک حیات ساتھ رہنا جاری نہ رکھنا چاہتے ہوں تو آپ کو الگ ہو جانے کا حق ہے۔ علیحٰدگی کا مطلب یہ ہے کہ زوجین کا یکجا رہنا ختم ہو جاتا ہے، مگر وہ شادی شدہ رہتے ہیں۔ اگر زوجین دوبارہ ایک ساتھ رہنا شروع کر دیں تو علیحٰدگی  منسوخ ہو جاتی ہے۔

آپ علٰیحدہ ہونےکے بغیر طلاق حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ

  • آپ متفق ہوں کہ آپ نےطلاق لینی ہے
  • آپ کی/کا شریک حیات زنا کا مرتکب ہوا,/ہوئی ہو
  • ازدواجی زندگی میں تشدد برتا جاتا ہو
  • آپ کی/کا شریک حیات آپ کے مشترکہ بچوں کو غیر قانونی طور پہ اپنے ساتھ غیر ملک میں لے گیا/گئی ہو
  • آپ کی/کے شریک حیات نے کسی اور سے بیاہ رچا لیا ہو
  • گزشتہ دو سالوں سے آپ ایک ساتھ نہ رہ رہے ہوں

زوجین کا فرض ہے کہ وہ اک دوجے اور اپنے بچوں کی کفالت کریں۔ اگر آپ اک دوجے سے علیحٰدہہو جاتے ہیں تو آپ میں سے ایک پر  دوسرے کو نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم صادر کیا جا سکتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں نان و نفقہ کے لئےدرخواست دے سکتے ہیں۔   علیحٰدگی  اور طلاق کی صورت میں کفالت کا فرض ساقط ہو جا تا ہے تا وقتیکہ زوجین اسے جاری رکھنے پہ متفق ہوں۔ اگر زوجین متفق نہ ہوں تو اس معاملہ میں عدالتیں فیصلہ کرسکتی ہیں۔

اگر زوجین کی ملکیت ان کے ذمہ واجب الادا سے زیادہ ہو توطلاق کی صورت میں انہیں اپنے اثاثہ جات برابر تقسیم کرنا ہوتےہیں۔ آپ نے حساب لگانا ہوتا ہے کہ انفرادی طور پہ آپ دونوں کی ملکیت کیا ہےاور واجب الادا کس قدر ہے۔ اگر آپ کی ملکیت کی مالیت واجب الادا سے زیادہ ہو تو بقیہ میں سے نصف اپنے شریک حیات کو ادا کرنا آپ پر فرض ہے۔ سٹیٹس فارویلٹنگن اثاثہ جات تقسیم کرنے میں رہنمائی کرسکتی ہے۔

ڈینش قوانین کے تحت طلاق نافذالعمل ہے چاہے مذہبی طلاق نہ دی جائے۔

جب تک بچہ 18سال کا نہ ہو جائے اس کی تحویل کا حق والدین کے پاس بطور والدین ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین بچے کی دیکھ بھال اور کفالت کریں اور بچے کے معاملات کے تعین کا حق والدین کے پاس ہوتا ہے۔

اگر بچے کی پیدائش کے وقت والدین شادی شدہ ہوں یا بعد میں شادی کریں تو بچے کی تحویل کا مشترکہ حق دونوں والدین کے پاس ہوتا ہے۔ تحویل کے مشترکہ حق کے معنٰی یہ ہوئے کہ بچے کی زندگی میں اہم معاملات کے ضمن میں والدین کو باہمی طور پہ متفق ہونا پڑتا ہے، مثال کے طور پر کہ بچہ کس سکول میں جائےیا بچہ غیر ملک میں نقل مکانی کرے۔

طلاق کے بعد بھی بچے کی مشترکہ تحویل کا حق جاری رہتا ہے۔ اگر والدین آپس میں رضامند ہوں کہ بچے کی تحویل والدین میں سے ایک کے پاس ہو تویہ سٹیٹس فارویلٹنگن کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ سٹیٹس فارویلٹنگن والدین کے مابین ثالثی اور مشورے کے ذریعہ مدد کرتی ہے۔

والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی کفالت کریں۔ چاہے والدین میں طلاق ہو جائے کفالت کا فریضہ لاگو رہتا ہے۔ اگر والدین اکٹھے نہ رہتے ہوں اور ان میں سے ایک کفالت کا فریضہ ادا نہ کرے تو درخواست دینے پر سٹیٹس فارویلٹننگن اس پر خرچہ ادا کرنے کا حکم صادر کر سکتی ہے۔

جب والدین ایک ساتھ نہ رہتے ہوں تو بچے کا خرچہ ایک معاشی مدد ہےجو والدین میں سے ایک دوسرے کو بچے کی کفالت کے لئے ادا کرتا ہے۔   سٹیٹس فارویلٹنگن   بچے کے خرچہ کے لئے رہنمائی کر سکتی ہے۔

 
 
 

پی ڈی ایف کو سیو کریں لنک بھیجیں